ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی سرکھشا یاترا اور مقتولوں کی فہرست۔کیا واقعی سدارامیااوررماناتھ رائے، سنگھ پریوار کارکنان کے قتل کا سبب ہیں؟

بی جے پی سرکھشا یاترا اور مقتولوں کی فہرست۔کیا واقعی سدارامیااوررماناتھ رائے، سنگھ پریوار کارکنان کے قتل کا سبب ہیں؟

Mon, 05 Mar 2018 21:30:35    S.O. News Service

منگلورو5؍مارچ (ایس او نیوز) بی جے پی کی طرف سے ’منگلورچلو‘ ریالی جو نکالی گئی ہے اس میں ایک اہم موضوع ساحلی علاقے میں 23بے قصورہندونوجوانوں کے قتل کاہے اور اس قتل و غارتگری میں وزیرا علیٰ سدارامیا اور جنوبی کینرا کے انچارج وزیر رماناتھ رائے کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا جارہا ہے۔

اپنا الزام ثابت کرنے کے لئے منگلورو چلو ریالی کا جو دعوت نامہ بی جے پی نے شائع کیا ہے اس میں قتل ہونے والوں کی فہرست شامل کی گئی ہے۔ مگر تعجب خیز بات یہ ہے کہ 23ہندو نوجوانوں کا قتل کہتے ہوئے فہرست میں صرف 15نام درج کیے گئے ہیں۔ باقی 8نام فہرست سے غائب کردئے گئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان 15مقتولوں میں زیادہ تر وہ افراد شامل ہیں جن کا قتل ساحلی اضلاع میں نہیں ہواہے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ یہ فرقہ وارانہ فساد میں مارے جانے والے لوگ بھی نہیں ہیں۔اس کے علاوہ کسی ایک بھی معاملے میں کانگریسی کارکنان کے گرفتار ہونے یا کانگریسی سازش ہونے کی بات بھی ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ان سب پہلوؤں کے باوجود ہندوؤں کے قتل میں کانگریسی وزیر اعلیٰ سدارامیا اور ضلع جنوبی کینرا کے انچارج وزیر رماناتھ رائے پر مسلسل الزام لگاتے ہوئے سنگھ پریوارریاست کے عوام کو گمراہ کرنے میں مشغول ہے۔

نام غائب کیوں ہوئے؟: 23ہندؤں قتل کے معاملے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ان میں سے جن 8مقتولوں کانام بی جے پی نے اپنی فہرست میں درج نہیں کیے ہیں ،ان وارداتوں میں خود سنگھ پریوار کے اراکین ہی ملزمان میں شامل ہیں۔جیساکہ منگلورو شہر میں بی جے پی کے بوتھ ایجنٹ اور آر ٹی آئی ایکٹی وسٹ ونائیک بالیگا کے قتل کے سلسلے میں بی جے پی کے ایک لیڈر پر سازش رچنے کا الزام ہے۔ اسی طرح بنٹوال کے ناوور میں بوتھ کارکن ہریش پجاری، اڈپی کے پروین پجاری، کولائی ہریش بھنڈاری، بی جے پی لیڈر کیشو سورنجے، ہیمنت سورتکل ، ایچ جے وی کے کارکن منی کنٹھا سورتکل جیسے کئی ہندو کارکن ہیں جن کا نام بی جے پی کی فہرست میں درج نہیں ہے اور الزامات خود سنگھ پریورا ر کے کارکنان پر ہیں۔جو فہرست پیش کی گئی ہے اس میں بہت سے مقتول سنگھ پریوارکے رضاکار تھے ہی نہیں۔جبکہ جن لوگوں کے نام فہرست سے غائب ہیں وہ سنگھ پریوار کے اصل کارکنان تھے۔ اور یہ بات بی جے پی کو اچھی طرح معلوم ہے۔ مگر سیاسی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہتھکنڈے استعمال کرنے میں بی جے پی کو کون مات دے سکتا ہے۔

شوبھا کا کارنامہ: اس سے قبل ایک بار شوبھا کرندلاجے نے بھی اس قسم کی ایک فہرست بناکر مرکزی وزارت داخلہ کو پیش کی تھی اور این آئی اے سے ان معاملات کی جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔ اس وقت خود سنگھ پریوار کی طرف سے اس فہرست پر اعتراضات دیکھنے کوملے تھے کیونکہ اس میں شراب پی کر ہلاک ہونے اور خودکشی کرنے والوں کے نام تو شامل تھے ہی ، لیکن اس میں ایک ایسے شخص کانام بھی درج تھاجوحملے میں بچ گیا تھا اور ابھی زندہ ہے۔شوبھا کرندلاجے کی اس وقت بڑی ہزیمت ہوئی تھی کیونکہ اس کی تیار کردہ فہرست میں خود اپنی بہن کے ہاتھوں قتل ہونے والے کارتیک راج کو بھی مسلمانوں کے ہاتھوں قتل بتایا گیا تھا ۔وامن پجاری نے خودکشی کرلی تھی اور اسے بھی فرقہ وارانہ قتل کی فہرست میں رکھا گیاتھا۔بی جے پی کے اندر ہی کچھ لوگ سوال کررہے ہیں کہ شوبھا کرندلاجے نے جو فہرست وزارت داخلہ کو سونپی تھی، اب کی بار بی جے پی نے وہ نام اپنی فہرست میں شامل کیوں نہیں کیے؟

مسلم مقتولوں کا ذکر نہیں: عوام کی طرف سے سب سے بڑا اور اہم سوال یہ بھی اٹھایا جارہا ہے کہ جس عرصے میں23 ہندو کارکنان کے قتل کی بات کو بی جے پی اچھال رہی ہے ، اور عوامی تحفظ کے نام پر ریالی نکال رہی ہے، اس نے اسی عرصے میں قتل کیے جانے والے 20سے زائد مسلم نوجوانوں کے بارے میں اپنی زبان پر تالا کیوں لگا رکھا ہے۔

واضح رہے کہ ریاستی کانگریسی حکومت کو ہندو مخالف اور ہندوؤں کی قاتل حکومت قرار دینے کے لئے3مار چ سے تین دن کی منگلورو چلو یاتراخوشال نگر سے اراکین پارلیمان نلین کمار کٹیل ، پرتاپ سنہا اور ضلع شمالی کینرا انکولہ سے مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے اور رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے کی قیادت میں بیک وقت شروع ہوئی ہے، جسے ’جن سرکھشا یاترا‘ کا اختتامی اجلاس 6مارچ کو منگلورو میں ہونا ہے۔ 


Share: